This is default featured slide 1 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.

This is default featured slide 2 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.

This is default featured slide 3 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.

This is default featured slide 4 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.

This is default featured slide 5 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.

Tuesday, 8 November 2016

ہر حال میں رہا جو ترا آسرا مجھے

غزل

ہر حال میں رہا جو ترا آسرا مجھے
مایوس کر سکا نہ ہجوم بلا مجھے

ہر نغمے نے انہیں کی طلب کا دیا پیام
ہر ساز نے انہیں کی سنائی صدا مجھے

ہر بات میں انہیں کی خوشی کا رہا خیال
ہر کام سے غرض ہے انہیں کی رضا مجھے

رہتا ہوں غرق ان کے تصور میں روز و شب
مستی کا پڑ گیا ہے کچھ ایسا مزا مجھے

رکھیے نہ مجھ پہ ترک محبت کی تہمتیں
جس کا خیال تک بھی نہیں ہے روا مجھے

کافی ہے ان کے پائے حنابستہ کا خیال
ہاتھ آئی خوب سوز جگر کی دوا مجھے

کیا کہتے ہو کہ اور لگا لو کسی سے دل
تم سا نظر بھی آئے کوئی دوسرا مجھے

بیگانۂ ادب کیے دیتی ہے کیا کروں
اس محو ناز کی نگۂ آشنا مجھے

اس بے نشاں کے ملنے کی حسرتؔ ہوئی امید
آب بقا سے بڑھ کے ہے زہر فنا مجھے


مولانا حسرت موہانی

یہ فخر تو حاصل ہے برے ہیں کہ بھلے ہیں

غزل

یہ فخر تو حاصل ہے برے ہیں کہ بھلے ہیں
دو چار قدم ہم بھی تیرے ساتھ چلے ہیں

جلنا تو خیر چراغوں کا مقدر ہے ازل سے
یہ دل کے کنول ہیں کہ بجھے ہیں نہ جلے ہیں

تھے کتنے ستارے کہ سرِ شام ہی ڈوبے
ہنگامِ سحر کتنے ہی خورشید ڈھلے ہیں

جو جھیل گئے ہنس کے کڑی دھوپ کے تیور
تاروں کی خنک چھاؤں میں وہ لوگ جلے ہیں

اک شمع بجھائی تو کئی اور جلا لیں
ہم گردشِ دوراں سے بڑی چال چلے ہیں
٭٭٭٭٭٭٭

ادا جعفری

لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں

غزل

لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالم ناپائیدار میں

کہہ دو ان حسرتوں سے کہیں اور جا بسیں
اتنی جگہ کہاں ہے دل داغدار میں

کانٹوں کو مت نکال چمن سے او باغباں
یہ بھی گلوں کے ساتھ پلے ہیں بہار میں

بلبل کو باغباں سے نہ صیاد سے گلہ
قسمت میں قید لکھی تھی فصل بہار میں

کتنا ہے بد نصیب ظفرؔ دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں


میر دریا ہے سنے شعر زبانی اس کی

GHAZAL
میر دریا ہے سنے شعر زبانی اس کی
اللہ اللہ رے طبیعت کی روانی اس کی

خاطرِ بادیہ سے دیر میں جاوے گی کہیں
خاک مانند بگولے کے اڑانی اس کی

ایک ہے عہد میں اپنے وہ پراگندہ مزاج
اپنی آنکھوں میں نہ آیا کوئی ثانی اس کی

مینہ تو بوچھار کا دیکھا ہے برستے تم نے
اسی انداز سے تھی اشک فشانی اس کی

بات کی طرز کو دیکھو تو کوئی جادو تھا
پر ملی خاک میں کیا سحر بیانی اس کی

کر کے تعویذ رکھیں اس کو بہت بھاتی ہے
وہ نظر پاؤں پہ وہ بات دوانی اس کی

اس کا وہ عجز تمھارا یہ غرورِ خوبی
منتیں ان نے بہت کیں پہ نہ مانی اس کی

کچھ لکھا ہے تجھے ہر برگ پہ اے رشکِ بہار
رقعہ واریں ہیں یہ اوراق خزانی اس کی

سر گذشت اپنی کس اندوہ سے شب کہتا تھا
سو گئے تم نہ سنی آہ کہانی اس کی

مرثیے دل کے کئی کہہ کے دیے لوگوں کو
شہر دلّی میں ہے سب پاس نشانی اس کی

میان سے نکلی ہی پڑتی تھی تمھاری تلوار
کیا عوض چاہ کا تھا خصمیِ جانی اس کی

آبلے کی سی طرح ٹھیس لگی، پھوٹ بہے
درد مندی میں گئی ساری جوانی اس کی

اب گئے اس کے جز افسوس نہیں کچھ حاصل
حیف صد حیف کہ کچھ قدر نہ جانی اس کی

میر تقی میر


کوئی امّید بر نہیں آتی

غزل
کوئی امّید بر نہیں آتی
کوئی صورت نظر نہیں آتی
موت کا ایک دین معیّن ہے
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی
آگے آتی تھی حالِ دل پہ ہنسی
اب کسی بات پر نہیں آتی
جانتا ہوں ثوابِ طاعت و زہد
پر طبیعت ادھر نہیں آتی
ہے کچھ ایسی ہی بات جو چپ ہوں
ورنہ کیا بات کر نہیں آتی
کیوں نہ چیخوں کہ یاد کرتے ہیں
میری آواز گر نہیں آتی
داغِ دل گر نظر نہیں آتا
بُو بھی، اے چارہ گر، نہیں آتی
ہم وہاں ہیں جہاں سے، ہم کو بھی
کچھ ہماری خبر نہیں آتی
مرتے ہیں آرزو میں مرنے کی
موت آتی ہے پر نہیں آتی
کعبہ کس منہ سے جاؤ گے غالبؔ
شرم تم کو مگر نہیں آتی


(
مرزا اسد اللہ خان غالبؔ)

دلِ نادان، کھلونے میں دلا دوں گا تُجھے

غزل

دلِ نادان، کھلونے میں دلا دوں گا تُجھے
خواب بُنتا ہوں جو دن رات، وہ لا دوں گا تُجھے

جاگ اُٹھتی ہے تُو ہر روز قیامت کیا ہے
خواہش وصل میں فرقت سے بُجھا دوں گا تُجھے

حسرت شوق، یہ مہنگا ہے ترا اُٹھ جانا
ایک تدبیر ہے تھپکوں گا سُلا دوں گا تُجھے

اک دھنویں سے تو زیادہ تری اوقات نہیں
غم نہیں تیرا مجھے غم، میں اُڑا دوں گا تُجھے

میں ترے درد کا داماں تو نہیں بن سکتا
اک دعا ہی میرے بس میں ہے، دعا دوں گا تُجھے


ایک کشتی پہ ترا نام لکھوں گا اظہر
جب بھُلانا ہی ہو مقصود، بہا دوں گا تُجھے

دلِ ناداں تُجھے ہُوا کیا ہے

غزل

دلِ ناداں تُجھے ہُوا کیا ہے
آخر اِس درد کی دوا کیا ہے

ہم ہیں مُشتاق اور وہ بیزار
یا الہٰی یہ ماجرا کیا ہے

میں بھی منْہ میں زبان رکھتا ہوں
کاش پُوچھو، کہ مُدّعا کیا ہے

جب کہ تُجھ بِن نہیں کوئی موجُود
پھر یہ ہنگامہ، اے خُدا کیا ہے

یہ پری چہرہ لوگ کیسے ہیں
غمزہ وعشوہ و ادا کیا ہے

سبزہ و گُل کہاں سے آئے ہیں
ابْر کیا چیز ہے، ہَوا کیا ہے

ہم کو اُن سے وفا کی ہے اُمیّد
جو نہیں جانتے وفا کیا ہے

ہاں بَھلا کر تِرا بَھلا ہو گا
اور درویش کی صدا کیا ہے

جان تم پر نِثار کرتا ہوں
میں نہیں جانتا دُعا کیا ہے

میں نے مانا کہ کچُھ نہیں غالب
مُفت ہاتھ آئے تو بُرا کیا ہے

اسداللہ خاں غالب

Comments System

blogger/disqus/facebook

Disqus Shortname

designcart